سری نگر، 3/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سری نگر کے نوہٹا اور جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں آج مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپ میں کم از کم 6 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ایک پولیس اہلکار نے دعوی کیا کہ یہاں تاریخی جامع مسجد میں جمعے کی نماز کے بعد نوہٹا علاقے میں نوجوانوں کے گروپ نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔افسر نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کی۔انہوں نے کہا کہ کم از کم 3 افراد اس دوران جھڑپ میں زخمی ہو گئے۔جھڑپ کے دوران پی ٹی آئی کے چیف فوٹوجرنلسٹ ایس عرفان بھی زخمی ہو گئے،عرفان اس واقعہ کی کوریج کے لیے وہاں گئے تھے۔عرفان نے کہاکہ سیکورٹی فورسز جب مظاہرین کو بھگا رہی تھی، اسی دوران میں ایک محفوظ مقام پر جانے کی کوشش کرنے لگا،جس دوران میرا ہیلمیٹ گرگیا،جب میں ہیلمیٹ اٹھانے کے لیے گیا تبھی ایک پتھر آکر مجھے لگا۔فوٹو جرنلسٹ نے کہا کہ انہیں ان کے ساتھی اسپتا ل لے کر گئے، جہاں سے ابتدائی علاج کے بعد اسے چھٹی دے دی گئی۔پولیس افسر نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں بھی نوجوانوں کے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے کے بعد جھڑپ شروع ہو گئی۔سیکورٹی فورسز علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی پرتلاشی مہم کے لیے پہنچی تھی۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے بھاگنے کی کوشش میں جوابی کارروائی کے دوران تین افراد زخمی ہوگئے۔اس درمیان کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کی طرف سے طلب کردہ ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی متاثر رہی، علیحدگی پسندوں نے خود ارادی کے حق کے مطالبہ کی حمایت میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔اس دوران وادی میں دکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے،جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر کم ہی نظر آئیں، حالانکہ ہڑتال کے باوجود بھی تمام اہم سڑکوں پر پرائیوٹ گاڑیاں چلتی دیکھی گئیں۔